میرے نانا جناب غلام رسول خان سواتی صاحب رحمہ اللہ
“میرے نانا جناب غلام رسول خان سواتی رحمہ اللہ”
چاہتے تواپنے والد احمد علی خان کی ہزاروں کنال جائیداد پر بیٹھ کر جاگیرداری بھی کرسکتے تھے ، جس دور میں انکے ہم عمر لڑکوں کا مشغلہ گھوڑے کو ایڑ لگا کر شکار کھیلنا تھا اس دور میں انہوں نے قلم دوات اٹھا کر جاگیرداری دار گھرانے میں علم بغاوت بلند کیا اور حصول علم میں جت گئے، عصری علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ روحانی اور باطنی علوم وسلوک کی منازل بنکوٹ میں واقع خانقاہ سے حاصل کیں اور حضرت جی کے ہاتھ پر بیعت ہوکر دنیاوی لذتوں کو خیر باد کہا۔
بھائ مطیع اللہ خان اور انکے بیٹے کی حادثاتی موت کے بعد انکے حصے کی زمین بھی یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ میری اولاد نرینہ تو ہے نہیں کیا کرونگا اس جائیداد کا؟
جس دور میں انکے بھائ غنی خان کہ جن کو کٹھائ سے چہار باغ تک کا نمبردار بنایا گیا اور چھ ماہ تک کی سزا دینے کے مجسٹریٹی اختیارات بھی حاصل تھے اور خان عبد الغفار خان اپنے دوستوں کے ہمراہ انکے مہمان خانے کی زینت ہوا کرتے ، محافل کا دور چلتا، موسیقی کی دھنوں پر پیٹی کے ساز ، طبلے کی دھمک اور گھنگروؤں کی چھن چھن کے ساتھ جب راگ الاپے جاتے تو دور گاؤں میں بیٹھی مائیں بچوں کو بتاتیں کہ آج خان جی کے ہاں کوئ باہر کے مہمان آئے ہیں، اس دور میں ساتھ ساتھ مائیں اس مرد قلندر اور درویش صفت انسان کی پاکبازی کی مثال وادی اگرور کے بچوں کو دیتیں کہ کردار ہو تو ان جیسا ہو۔
اس قدر دولت جائیداد اور اثر رسوخ کے باوجود انہیں ناتو شہرت کا کوئ شوق تھا اور نا ہی کبھی دنیا کی طلب رہی، فقراور اختیاری فقر کو ہمیشہ ترجیح دیتے، کم کھاتے کم بولتے اور بس کچھ کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ۔
پھر چشم فلک نے وہ دن دیکھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں اولاد نرینہ بھی عطا کی اور دنیا میں سرخرو بھی کیا، کچھ کر گزرنے کی دھن انکے سر پہ سوار تھی اور اسی مقصد کے حصول کے واسطے آرمی جوائن کی، جنگ عظیم دوئم پر لکھی گئ کتاب پرل ہاربر میں بھی انکا ذکر اور شجاعت کے کارنامے درج ہیں، دولت کی فراوانی کا یہ عالم تھا کہ اپنی جس بہن کو شادی کے موقع پر بطور دوپٹہ جنگلات کے مربعے عطا کئیے انکے پوتے آج سینیٹر ، اور ایم این اے ہیں، اور ہنوز ان جنگلات سے مستفید ہورہے ہیں، لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کو ہی ترجیح دی اور دفاع وطن میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ریے، اور یہ وہ دور تھا کہ انکی زمین کی نگرانی پر مامور زمیندار صبح گھوڑے پر نکلتے تو شام تک چکر ادھورا رہتا اور تاحد نگاہ انکی اراضی نظر آتی۔
پاکستان بننے کے بعد پروفیشنل ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے مرحوم بھائ کی اولاد اور اپنی دوسری بیوی سے پیدا ہونے والے اکلوتے بیٹے کی تعلیم اور تربیت پر توجہ مرکوز رکھی جو آگے چل کر ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو بنے اور انکی ایمانداری اور پروفیشنل ازم کی اسناد اور مثالوں سے آج بھی اکیڈمی میں نئے آنے والے جوانوں کی تربیت کی جاتی یے۔
ستمبر 1965 میں جب دشمن نے لاہور جم خانہ میں چائے پینے کی بڑھک ماری تو نوشہرہ سے ٹینک لے کر نکلنے والا پاک فوج کا یہ پروفیشنل آفیسر خود بنفس نفیس میدان میں اترا اور چونڈہ کے مقام پر آکر دشمن کو وہ سبق سکھایا کہ چونڈہ کو ٹینکوں کا قبرستان ڈکلئیر کرنا پڑا، اور پھرجنگ کے کئ سال بعد ہندوستانی باقاعدہ سر جوڑ کر بیٹھے کہ آخر ہمارے ساتھ ہوا کیا؟
جہاں ایک طرف میجر عزیز بھٹی جیسے افسران زمینی دفاع میں، اور ایم ایم عالم جیسے ہیرو ائیر اسٹرائیک میں مصروف عمل تھے تو اسی طرح سے انڈین آرمی کے ٹینکوں کو دھکیلنے اور تانک تانک کر انکا شکار کرنے پر یہ مرد مجاہد بھی اگلے محاذ پر اپنے جوانوں کو لئیے انکے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔
انکی کوئ مجبوری نہیں تھی کہ وہ فوج میں مراعات کے لئیے بھرتی ہوں اور نا ہی کبھی انہوں نے کبھی بھی حب جاہ کو پسند کیا، صرف موسیقی سننے اور کتابیں پڑھنے کا شوق تھا، شاعری بھی کی، غزلیں بھی لکھیں، جبکہ ریڈیو ہمیشہ سرہانے رکھ کر لتا، رفیع اور نور جہاں کو شوق سے سنا کرتے، لنگر آخر وقت تک دیتے رہے، جو کہ الحمدللہ آج بھی انکی طرف سے دیا جاتا ہے، انتقال سے چند دن قبل اپنے بھتیجے نسیم خان کو چھڑی ہاتھ میں لئیے واک پر لے گئے اور باتوں باتوں میں وصیت کر کے اپنی جائے تدفین بھی چھڑی سے مارک کر کے بتائ۔
آخری رات اپنی سب سے محبوب، پیاری اور بڑی بیٹی( جو کہ انکی پہلی بیوی سے تھیں) سے رازو نیاز کی باتیں کیں، رات دو بجے کے قریب ایمان مفصل اور ایمان مجمل زور زو سے پڑھی، اسکے بعد باآواز بلند آیت الکرسی پڑھی، اسی اثناء میں بیٹی اور اہلیہ متوجہ ہوئیں تو سنا زور زور سے کہہ رہے ہیں ، “دفع ہوجا مردود”، انہوں نے اٹھکر دیکھا تو کوئ بھی نا تھا سوچا شائد نیند میں بڑ بڑا ریے ہیں ، سحر کے وقت اہلیہ اور بیٹی جب دوا دینے جاگیں تو دایاں ہاتھ سر کے نیچے اور بایاں سینے پر رکھے قبلہ رخ پرسکون لیٹے تھے، اور دنیا سے وصال فرما چکے تھے۔
میرے نانا بابا نور اللہ مرقدہ ،میرے لئے ایک رول ماڈل تھے ، اور ماموں جان آج بھی میرے پیرو مرشد ہیں، کہ جن سےمنٹو سے لیکر ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب سے لیکر فراز تک کی معرفت پائ، کلیات اقبال اور فیض کی نسخہ ہائے وفا کی تشریح، ابولکلام آزاد کے خطوط سے لیکر راسپوٹین اور فی ظلال القرآن جیسی دقیق تفسیر کی ساری گتھیاں ان ہی محفل اور مجلس میں بیٹھ کر بندہ نے سلجھائیں.
اس مرد قلندر (میرے نانا غلام رسول خان ) نے بہت سی چیزیں ماموں جان کو ودیعت کیں اور اسی کیوجہ سے آج بھی جب ماموں جان کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک آتا ہے تو ، آنکھیں جھکا کر دوزانو بیٹھ جاتے ہیں اور آواز ایک دم سے دھیمی ہوجاتی ہے۔
1965 کی جنگ میں یقینا دشمن ہم سے طاقت میں کئ گنا بڑا تھا لیکن تب افسران نا تو پراپرٹی ڈیلر تھے اور ناہی ڈی ایچ اے اور بحریہ کی فائلوں کے کمیشن کھایا کرتے تھے، اسی وجہ سے میجر اور کرنل لیول کے افسران کا مورچوں پر ہونا عام سی بات تھی ، ہر چیز کی کمانڈ اپنے ہاتھ میں ہوتی اور جوانوں سے پہلے خود سینئرز میدان میں اتراکرتے۔
کبھی فرصت ملی تو انشاء اللہ آپریشن گرینڈ سلام اور جبرالٹر ہر بھی لکھونگا، تو بات ہورہی تھی نانا جان کی کہ گزشتہ شب نانا جان کی روح مجھ سے چشم تصور میں مخاطب تھی کہ ہمارے ہوتے تو دشمن ایک انچ زمین کا ٹکڑا نا لے سکا اب کیا ہوگیا؟
تو میں شرمندگی سے سر جھکائے من ہی من میں گویا ہوا کہ بابا آپ کے زمانے میں جنگیں میدان میں لڑی جاتی تھیں جبکہ اب جنگیں ٹوئیٹر پر لڑی جاتی ہیں۔آج ان تمام شہداء اور مرحومین کی روحیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ کیا ہم نے اس دن کے لئیے قربانیاں دی تھیں کہ کشمیر میں ہماری بیٹیوں پر ہندو بنیا ہاتھ ڈالے اور تم اداکاروں اور گلو کاروں کے جھرمٹ میں سیلفیاں لے کر اپنے ہی ملک کو فتح کرتے پھرو؟
یاد رکھیں طاقت وہ ہے جو دشمن کے لئیے ہو، اپنوں پر طبع آزمائ سے کوئ ہیرو نہیں بنتا، میرے نانا اور دادا اگر آج تاریخ میں زندہ ہیں تو اپنوں کے لئے قربانیاں دینے کی وجہ سے وگرنہ تاریخ جرنل نیازی سے جرنل رانی تک سب کو یاد رکھتی ہے ،بس ذرا انداز مختلف ہوتا یے!
بہر حال میں آفتاب نذیر آج چھ ستمبر 2019 اپنے نانا اور انکی پوری رجمنٹ کو سلام پیش کرتا ہوں اور اس عزم کا اظہار کرتا ہوں کہ اس وطن پاکستان اور مٹی کے دفاع کی خاطر خون کے آخری قطرے اور آخری سانس تک لڑونگا۔
سلام بر نانا جان

